Handmade quality · Free shipping over $75 · Explore the atelier

OF REASON, ROMANCE AND RUIN Long Walk to Freedom یہ سن کر میری زبان

SKU: 1857444435

4.8
USD935.00 USD962.00

Pay in 4 interest-free payments of $233.75 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 11 - Aug 16

Description

یہ سن کر میری زبان سے نکلا : ’’وہی کمی جو اسلام سے پہلے تاریخ میں تھی‘‘۔ میرے اس جواب پر وہ فوری طور پر خاموش ہو گئے۔ انھوں نے محسوس کیا کہ با عتبار تاریخ یہ بات صحیح ہے کہ وہ سب کچھ جس کو ترقی کہا جاتا ہے ، وہ اسلام سے پہلے دنیا میں موجود نہ تھا ، یہ صرف اسلام کے بعد ظہور میں آیا۔ تاہم انھیں اس میں شبہ تھا کہ ان ترقیوں کے ظہور کا کوئی تعلق اس تاریخی واقعے سے ہے، جس کو اسلام یا اسلامی انقلاب کہا جاتا ہے۔

مواد اور اُسلوب کی مانند اس ناول کا نام بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے جو ایک زبردست طنز پر مبنی ہے اور جو ناول کے پلاٹ کے پسِ منظر سے اُبھرا ہے۔ پلاٹ کا تانا بانا فساداتِ پنجاب سے تیار کیا گیا ہے۔ ۱۹۴۷ء میں جب یہ فرقہ وارانہ فسادات پوری وحشت ناکی کے ساتھ بَرپا تھے تو انسانیت مسخ ہو کر رہ گئی تھی۔ زندگی کی اقدار جیسے راتوں رات تبدیل ہو گئی تھی۔ اگر کوئی فرزندِ اسلام، برادرانِ ملت سے کہتا تھا کہ ہندوئوں اور سکھوں نے ہمارا کیا بگاڑا ہے۔ قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے کہ ہمسایہ کی حفاظت اپنی جان کی طرح کرو۔ ان کے قتلِ عام سے باز رہو، تو نام نہاد ”رضا کار“ جھٹ فتویٰ داغ دیتے تھے کہ یہ ”سچا مسلمان“ نہیں۔ یہ تو لالوں کا ایجنٹ اور سکھوں کا وظیفہ خوار ہے۔ اس ”غدار“ کو گولی سے اُڑا دو۔ اسی طرح اگر کوئی سکھ یا ہندو اپنے دھرم کے بھائی بندوں سے اپیل کرتا تھا کہ سری گورو گرنتھ صاحب کے مہاوالیہ ”ایک پتا، ایکس کے ہم بارک“ (ہم سب اُس قادرِ مطلق کی اولاد ہیں) کے انوسار مسلمان بھی ہمارے بھائی ہیں، ان کے خون سے ہاتھ نہ رنگو تو خود ساختہ ”جتھے دار“ اُس ”غدار“ ہندو یا سکھ کو اہلِ اسلام کا پِٹھو جتلا کر فی الفور ”جھٹکانے“ کا فرمان صادر کرتے تھے۔ چنانچہ اس دَورِ ابتلا میں بہت سے اس طرح کے مسلمان، سکھ اور ہندو ”غدار“ شہید کیے گئے۔

بھٹو کی سیاسی سوانح عمری پر مشتمل سلمان تاثیر کی کتاب

(f) public service design for all tiers of government that would include:

زندگی گلزار ہے عمیرہ احمد

OF REASON, ROMANCE AND RUIN Long Walk to Freedom یہ سن کر میری زبانPAGES: 112 AUTHOR: NADEEM FAROOQ PARACHA Nadeem Farooq Paracha traces the political currents that led to the formulation of what has come to be known as the Pakistan Ideology. This ideology was unveiled in the late 1970s and first introduced through textbooks. It was to be followed by all government and state institutions. This continues to be the case. The ideology explains what being a Pakistani means. However, the ideology has often been criticized

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products